بھانجی امبر کی شادی سےواپسی پر نعیم صاحب سارے راستے خاموش رہےاور ناعمہ نے توچپ سی سادہ لی کتنےدن گزر گئے،سارا گھر پریشان سا تھا

بھانجی امبر کی شادی سےواپسی پر نعیم صاحب سارے راستے خاموش رہےاور ناعمہ نے توچپ سی سادہ لی کتنےدن گزر گئے،سارا گھر پریشان سا تھا

بھانجی امبر کی شادی سےواپسی پر نعیم صاحب سارے راستے خاموش رہےاور ناعمہ نے توچپ سی سادہ لی کتنےدن گزر گئے،سارا گھر پریشان سا تھا

کیونکہ شادی میں ہرکوئی نعیم صاحب سے ان کی اکلوتی بیٹی ناعمہ کی رخصتی کا پوچھ رہاتھا۔بھائی پانچ سال ہوگئے ہیں نکاح کو ۔۔۔

لڑکا امریکہ میں ہو یا کسی اور بیرون ملک میں ایک سال کے اندراندر ویزہ مل جاتا ہے ۔

یہ کیا معاملہ ہے لڑکے والوں سے کھل کر بات کرو نعیم صاحب کے بڑے بھائی وقار صاحب نے چپکے سے ایک طرف لےجاکر سمجھایا ۔۔کیونکہ وہ اپنے بی اے پاس کلرک بیٹے کے لیے پہلے سے خواہش مند تھے۔

مگر ناعمہ کا نکاح عاصم سےطےہوا جو امریکہ میں آئی ٹی انجینئرتھا ۔

خاموشی کی وجہ تو ناعمہ کا بڑا بھائی عزیر بھی جانتا تھاکیونکہ اس کی شادی بھی التوا میں تھی کیونکہ دونوں بہن بھائیوں کی شادی کا خرچہ خاندان بڑا ہونےکی وجہ سے زیادہ متوقع تھا تو یہ طے ہوا کے عزیر کےولیمہ پر ناعمہ کی رخصتی ہو جائے گی اور اس طرح ایک ہی کھانےسے ایک پنتھ دوکاج کا معاملہ ہو جائےگا، اس طرح نعیم صاحب کی گریجیوٹی کےروپوں میں دونوں بچوں کےفرض سے فارغ ہوجائیں گے ۔

ناعمہ نےماسٹرز کےبعد پی ایچ ڈی بھی کرلی پرائیویٹ کالج میں جاب مل گئی مگر گورنمنٹ میں اپلائی نہ کیا کہ باہرجانا ہے کسی کا حق کیوں ماریں۔

ناعمہ کی بڑی خالہ آمنہ آئیں ،دبئی سےخالہ نےاپنی چھوٹی بہن فرزانہ کوکہا یعنی ناعمہ کی امی سے کہا کہ ” لڑکے والوں کو گھر بلواؤ ان سےکھل کر بات کرو کہ کب سےانتظار کررہے ہیں۔ اب فائنل تاریخ دیں ،ہماری بچی کی عمر بڑھ رہی ہے۔

اس کی عمرکی بچیاں ایک ایک کرکے اپنے گھر کی ہوگئیں ۔پوراخاندان ہم سے پوچھ رہا ہے۔ ناعمہ کی رخصتی کا کب تک ممکن ہے۔ ان پر زور ڈالو جلدی بلائیں لڑکے کو” ۔۔۔۔

دوسرے دن فرزانہ بیگم نےعاصم کی والدہ رضیہ صاحبہ کو فون کیا ۔انہوں نے دو تین ماہ کا وقت مانگا اورکہا کہ”عاصم سے بات کرکے ہم حاضرہوتے ہیں ۔”

تین چاردن کے بعد عاصم کی والدہ فرزانہ عاصم کےوالد کےساتھ تشریف لائیں اورایک ماہ کاوقت مانگاکہ جیسے ہی ویزے کی کارروائی مکمل ہوتی ہےبس ٹکٹ لےکر وہ آجائے گا۔ سب خوش ہوگئے ۔

عاصم نے بھی ناعمہ سے کہا ” کہ ایمبیسی میں ویزہ پراسیسنگ میں ہےتم میرااعتبار کرو بس جیسے ہی ویزہ ملتا ہے،اگلی فلائٹ سےمیں پاکستان ہوں گا انشاء اللہ “۔

مہینہ گزرگیا دو مہینے ۔۔۔۔ لان بھی بک کروایا ارجنٹ مگرعاصم نے پھر معذرت کی کہ ناعمہ کا ابھی ویزا نہیں ملا۔ ایک سال ہوگیا چھ سال ہونےکو آئے۔۔۔ تو نعیم صاحب کے بڑے بھائی وقارصاحب اورخالہ جان آمنہ نےمشورہ دیا کےطلاق لو۔۔۔ ہو سکتا ہے لڑکے نے وہاں شادی کرلی ہو…. اور اب ٹال مٹول کررہےہوں ۔

خیرعاصم کی والدہ اوروالد کو بلایا گیا اورتایا اورخالہ کی عدالت میں فیصلہ ہوا کے اگر ایک ماہ کے اندر عاصم ویزا نہ حاصل کرسکا تو طلاق لےکر ناعمہ کا نکاح کہیں اور کردیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورکہیں کیوں تایا اورخالہ امیدوار کھڑے تھےمگر ناعمہ اور فرزانہ بیگم دونوں پریشان تھیں۔ ادھرعاصم کے فون آرہے تھے ۔،”ناعمہ کوسمجھاؤ اپنے گھر والوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں دھوکے باز نہیں ہوں ۔

اللہ جانے کیوں دیرہورہی ہے امریکہ میں اکثرکو ویزا دیرسے ملتا ہے۔ میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں ۔ایسا کرو کے کے آنٹی سے کہو کوئی لان نہ بک کرائیں میرے دوست کا گھرہزارگزکاہے۔ ان کا لان بڑا ہےوہیں ارینج کر لیں گے۔۔۔۔ رشتہ نہ ختم کریں ۔پلیز نعیم۔۔۔۔۔ عزیرکو بھی روز فون کرتا بیگم فرزانہ اور ناعمہ کوبھی اور اسی اثنا میں رمضان آگیا ”

۔۔اور نعیم صاحب نے رمضان کا اینڈ ڈیڈ لائن دے دی ۔

اس کےبعد ہماری طرف سے رشتہ ختم ۔۔ پندرہ رمضان کو نعیم صاحب نے وکیل صاحب کو خلاء کےپیپرتیار کرنے کو کہا اوراکیس رمضان کوعاصم صاحب کے والد صاحب کو مطلع کر دیا،عاصم کا براحال تھا اور ناعمہ کا رو رو کر۔۔۔۔۔ فرزانہ بیگم نے کہا کے بیٹا اب اللہ سے دعا کرو ۔۔۔۔۔ سب اس کے بس میں ہے۔۔۔۔ اس کے حکم سے سب ممکن ہوگا ۔

آخرنعیم صاحب نےعاصم سےکہا کہ” وہ رمضان کا آخری عشرہ دے رہےہیں۔ بصورت دیگر وہ امریکہ سےاپنی جاب ختم کرکے پاکستان آجائے۔ رزق اس کے نصیب کا پاکستان میں بھی مل جائےگا ۔

اس کے لیے عاصم کے والدین نہ مانے مگرعاصم بضد تھا کے آپ رشتہ ختم نہ کریں میں ناعمہ کونہیں چھوڑ سکتا ۔

میں ہرممکن کوشش کروں گا “۔

عید کی وجہ سے سیٹس بھی نہیں مل رہی تھیں ۔

بس ناعمہ گڑ گڑا کرکر بارگاہ الٰہٰی میں دعائیں کررہی تھی کہ اس کا رشتہ نہ ٹوٹے ۔اپنے ابوسے بھی کہا مگر نعیم صاحب حتمی فیصلہ کر چکے تھے۔

تیسواں روزہ بھی افطارہوگیا ۔

بس ناعمہ کا اعتکاف ختم ہوگیا۔ عشاء کی نماز میں بارگاہ الہٰی میں رو رو کر دعا کی ساری رات نیند نہ آئی ۔۔۔۔ تہجد پڑھی ۔۔۔۔ پھر کب نیند نے آنکھوں میں بسیرا کیا ۔اسے پےا ہی نہیں چلا ۔

فجرکی اذان ہوئی۔۔۔ ناعمہ بھاری قدموں سے اٹھی وضو کیا نماز ادا کی۔ قرآن پاک کی تلاوت کی۔۔۔۔ زبان تھک گئی ۔۔۔۔ بس جو جائے نماز پرسر رکھا پھر نہ اٹھایا اوروہ بے ہوش ہوگئی۔

امی کے جھنجھوڑنے پرناعمہ کو ہوش آیا ۔کانوں میں آواز آئی کے بیٹا عاصم کی امی کا فون آیا ہے کہ عاصم ابھی فجر میں پاکستان پہنچ گیا ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔

یہ سن کر ناعمہ اورسب گھر والوں کی جان میں جان آئی ۔

عید کی نماز کے بعد عاصم نےعید مبارک کا فون کیا “یہ عید ہمارے لیے پرمسرت عید سعید ہے۔ خوشی ومسرت کا انعام ہے۔مجھے کل ویزا ملا جب میں اپنا ریزیکنیشن لیٹر ٹائپ کررہا تھا۔اسے چھوڑ کرچند کپڑے بیگ میں ڈال کرائرپورٹ پہنچا ۔ میرے پاس سیٹ کنفرم نہیں تھی۔ ایئر پورٹ پرایک مسافر نے میری پریشانی دیکھ کرلاسٹ فلائٹ میں مجھے اپنی سیٹ دے دی اوراب آپ کےپاس آرہےہیں اور میں فجر کی نماز پڑھ کر گھر آیا ہوں۔”

عید کی نماز پڑھ کر اپنے والدین کےساتھ عاصم ناعمہ کے گھر آئےاوردو دن بعد ناعمہ عاصم اورعزیر کی رخصتی طے ہوگئی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *